6 ستمبر، 2026، 11:41 AM

ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی بحریہ کی کمزوریاں بے نقاب کردیں، روسی تجزیہ کار

ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی بحریہ کی کمزوریاں بے نقاب کردیں، روسی تجزیہ کار

روسی تجزیہ کار کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی بحریہ کی کمزوریاں نمایاں ہوئیں، جس سے امریکہ میں اقتدار اور دفاعی پالیسی میں ممکنہ بڑی تبدیلیوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی مصنف اور تجزیہ کار الیگزینڈر تیموخین نے روسی جریدے وزگلیاد میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی بحریہ کی کئی بنیادی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے۔

تیموخین کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن بدھ، 2 ستمبر کو تقریباً آٹھ ماہ کی تعیناتی کے بعد تھائی لینڈ کی بندرگاہ پٹایا پہنچا۔ یہ طویل مشن کے بعد مذکورہ بحری جہاز کی پہلی بندرگاہ تھی جہاں اس نے لنگر ڈالا، جبکہ جہاز کی حالت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

روسی تجزیہ کار نے دعوی کیا کہ اس طویل مشن کے دوران امریکی بحری جہاز کے اہلکاروں کو بھوک، شدید ذہنی دباؤ اور یہاں تک کہ خودکشی کی کوششوں جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس نے امریکی بحریہ کے لیے ایک بڑا تنازع کھڑا کردیا۔

مضمون کے مطابق ان مسائل کی بنیادی وجہ امریکی بحری حکمت عملی کی ناکامی ہے۔ تیموخین کا کہنا ہے کہ امریکا کو یہ واضح نہیں کہ مستقبل کی بڑی جنگ میں اپنی بحری طاقت کو کس طرح استعمال کرنا ہے اور نہ ہی وہ اپنی بحریہ کی درست نوعیت اور مطلوبہ ساخت کا تعین کر پایا ہے، جس کے باعث اس کی مستقبل کی بحری منصوبہ بندی بھی متاثر ہورہی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ امریکی بحریہ کے مستقبل کے حوالے سے امریکا میں بہت سی بحث جاری ہے، تاہم اب تک کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آسکی۔ انہوں نے امریکی بحریہ کے نظریہ نیٹ ورک وارفیئر کے ماہر ایڈمرل آرتھر سیبرووسکی کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ملک اپنا مستقبل خود تشکیل نہیں دیتا تو اسے دوسروں کے بنائے ہوئے مستقبل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تیموخین کے مطابق امریکی بحریہ اس وقت اسی صورتحال سے دوچار ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی بحریہ کو بھی سابقہ جنگوں کی طرح طویل عرصے تک دباؤ اور تھکن کا شکار کیا، جس کے نتیجے میں اس کی مشکلات امریکی میڈیا اور کانگریس میں بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔

روسی مصنف نے تاہم کہا کہ حریف کو مورد الزام ٹھہرانا بے فائدہ ہے۔ ان کے مطابق امریکا میں سامنے آنے والے یہ مسائل تبدیلی کے لیے حالات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت امریکہ میں اقتدار کے لیے شدید کشمکش جاری ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی بعض شخصیات نے طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن سے متعلق واقعات کو نمایاں کیا ہے۔

تیموخین کے مطابق ان مسائل کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے، اگرچہ یہ مسائل ڈیموکریٹس کے ادوار میں بھی موجود تھے۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ امریکی معاشرے میں موجودہ صورتحال ایسی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے امکان کی نشاندہی کرتی ہے جو مختلف طریقوں سے سامنے آسکتی ہے۔

News ID 1941170

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha